ابنا: صہیوني ریاست نے بدھ کو بحيرہ احمر ميں سوڈان کے ساحلي علاقے ميں ہتھياروں اور ميزائلوں کے حامل ايک بحري جہاز کو روکنے کا دعوي کرتے ہوئے کہا ہے کہ يہ بحري جہاز جس پر پناما کا پرچم نصب تھا، بقول اس کے ايران کي ملکيت ہے اور حماس کے لئے ہتھيار لے کر غزہ جارہا تھا- صہيوني حکام کے دعوے کے مطابق غزہ کے لئے بھيجے جانے والے جديد ترين قسم کے ميزائل دوسو کلو ميٹر تک مار کرنے کي صلاحيت رکھتے ہيں اور ان کے ذريعے لاکھوں اسرائيلي باشندوں کو نشانہ بنايا جا سکتا ہے- افريقا اور عرب ممالک کے امور ميں وزارت خارجہ کے ڈائريکٹر حسين امير عبداللہيان اپنے ايک بيان ميں صيہوني حکومت کے اس دعوے کي ترديد کرتے ہوئے اسے بے بنياد قرار ديا ہے- انہوں کہا کہ صہيوني حکام اس سے قبل بھي اس قم کے بے بنياد دعوے کرتے رہے ہيں- صہيوني حکومت نے اس سلسلے ميں جو فلم جاري کي ہے اور جس کي مغربي ذرائع ابلاغ کافي تشہير کررہے ہيں ,اس ميں دکھايا گيا ہے کہ اسرائيلي فوجي جہاز کے عرشے پر راکٹوں کا معائنہ کر رہے ہيں-اس فلم ميں سيمنٹ کے پيکٹ ديکھے جاسکتے ہيں کہ جن پر انگريزي ميں ميڈ ان ايران لکھا ہوا ہے-اس سناريو ميں دعوي کيا گيا ہے کہ ايران خطے ميں ان گروہوں کي حمايت کرتا ہے جو اسرائيل کے خلاف ہيں اور اس طرح علاقے ميں بدامني کا باعث ہے –اس سناريو ميں عراق، شام اور سوڈان کو بھي ايران سے ہماہنگ بتانے کي کوشش کي گئ ہے –اور تيسرا نکتہ يہ ہے کہ دعوي کيا گيا ہے کہ امريکا اور اسرائيل کي انٹيليجنس ايجنسياں کئي مہينے سے اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے تھيں اور يہ کھيپ دونوں کي مشترکہ کاوشوں اور تعاون سے پکڑي گئي ہے - ليکن اسرائيل اور امريکا کا يہ مشترکہ سناريو اسطرح کے ديگر ڈراموں کي مانند، بہت سے سوالات کوجنم ديتا ہے اور ہر قسم کے ثبوت سے عاري مبہم دعوؤں کے بجز اور کچھ نہيں ہے- مثال کے طور پرصہيونيوں کے دعوے کے مطابق انہوں نے اس بحري جہاز کو غزہ کے ساحل سے بہت دور تقريبا نوسو ميل کے فاصلے پر روکا ہے اور يہ جہاز ايران سے سامان لے جارہا تھا ليکن اس کا کوئي ثبوت پيش نہيں کيا گيا ہے - ايک اور بات جو اس سناريو کو مشکوک بناتي ہے ، يہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جي کارني نے صيہوني حکومت کے دعوے کے ساتھ ہي ايک ہنگامي پريس کانفرنس ميں کہا کہ يہ جہاز ايک ايسے وقت پکڑا گيا ہے کہ امريکا ايٹمي معاملے پر ايران کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے- جي کارني نے اس کے ساتھ ايران پر عالمي قوانين کي خلاف ورزي کا الزام لگايا اور يہ نتيجہ نکالا کہ ايران کے ساتھ امريکا کي ايک مشکل دہشت گرد تنظيموں کي حمايت اور علاقے ميں اس کي پاليسياں ہيں-حقيقت امر يہ ہے کہ اسطرح کے بيان کا مقصد اور ہدف اس تشہيراتي مہم کو آگے بڑہانا ہے جس کي ابتدا صہيوني حکومت کے وزير اعظم نتن ياہو نے امريکا ميں صيہوني لابي يعني ايپک کے اجلاس کے موقع پر، کرچکے ہيں- ......./169
5 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 511624
غاصب صہیوني ریاست نے جو ايران اور پانچ جمع ايک کے درميان ايٹمي سمجھوتے سے تلملاہٹ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے، ايران کےخلاف ايک بار پھر جعلي سناريو تيار کرنے کي کوشش کي ہے –